تم نے ملک کو کیا دیا؟

دو ماہ کی بچی نے رو کے دودھ مانگا. ماں نے یہ کہتے ہوئے گلی میں پھینک دی کہ وہ کام میں ہاتھ نہیں بٹاتی.غلطی کہاں ہے؟

غلطی سوچ میں ہے، کہ ایک دو ماہ کی بچی کی پرورش کرنے کی بجائے، اس کو غذا، لباس، آغوش اور تعلیم کی بجائے ننھی جان سے کام میں ہاتھ بٹانے کی توقع رکھی جائے۔
یہ ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی دیکھ بھال کرے، ان کو اس قابل بنائے کے وہ اپنے اور دوسروں کے لیے کچھ کر سکیں۔ نہ کہ بچوں کی ذمہ داری کہ وہ ماں کو سنبھالیں۔
ٹھیک یہی کچھ قریبا ہر ریاست میں ہو رہا ہے۔ نوجوان نسل جب اپنا حق مانگتی ہے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ "تم نے ملک کو کیا دیا"۔
حالانکہ ملک صرف زمین کے خطے کا نام ہوتا ہے۔ ملک ریاست سے آزاد رہتے ہوئے ساتھ چلتا ہے۔
فرض کیجئے ایک ریاست موجودہ بھارتی و پاکستانی پنجاب میں موجود ہے۔ اس کا کوئی خاص نام کہیے، "لوگ ستان" ہے۔ اب اگر رفتہ رفتہ یہ پاکستانی علاقے کی جانب سے کم ہونا (جنگوں وغیرہ کی صورت میں) کم ہو، اور اسی طرح بھارتی جانب سے بڑھتی جائے اور ہریانہ (بھارت کا صوبہ) میں جا نکلے تو ریاست قائم رہے گی جبکہ خطہ یعنی ملک بدل چکا ہو گا۔
ریاست کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر فرد کی تعلیم و تربیت، بنیادی حقوق اور مواقع کا انتظام کرے۔ ایک نہج پر پہنچ جانے کے بعد فرد کے لیے لازم ہے کہ وہ ریاست کی نگہداشت کرے۔
قبل الذکر نکتہ اشرافیہ کا پیش کردہ ہے تاکہ جذبہ حب الوطنی کو ایسے انداز سے پیش کیا جائے کہ فرد پستا ہی چلا جائے مگر زبان سے کچھ نہ بولے۔
اس نکتے کو دوسری شکلیں بھی ہیں، جو کہ انسان کے دیگر جذبات کو ہائی جیک کرتے ہوئے ذہنی، فکری اور عملی غلام بنا ڈالتی ہیں۔ مثلا مرد مومن مرد حق۔۔۔۔ اور زندہ ہے فلاں زندہ ہے۔ نعرے لگوانے والے دنیا کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہوتے ہیں جبکہ نعرے لگانے والے بنیادی حقوق سے ہی محروم ہوتے ہیں۔

یہ سوال کرنا ہر نوجوان کا حق ہے کہ نظام ملک نے اس کو کیا دیا۔ اور ہرریاست کا حق ہے کہ وہ اپنے افراد کو نوازنے کے بعد احتساب بھی کرے۔
کوئی جناح کا بیٹا ہو یا اقبال کا پسر، اس سے بالاتر نہ تھا نہ ہے نہ ہونا چاہیے۔



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Have your say?