ادب، سچائی اور اندھی تقلید

جواب ہوتے لاجواب نہ کرنا ادب ہے. 
جبکہ سچ کو چھپانا اور "ادب" میں جھوٹ بولنا چاپلوسی اور بد دیانتی. 
اسی بد دیانتی کی وجہ سے آج ایک ہی فرقہ کے لوگ بھی متفق نہیں ہیں. 
یہاں تک کہ سلاسل طریقت میں بھی نقشبند و چشتی باہم جھگڑتے ہیں. 
ایسا صرف مداریوں کی وجہ سے ہے.
حضور نبی الکریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاکیزہ ظاہری دور میں یا تو مومنین ہواکرتے یا غیرمومنین.
مروان بن حکم نے ڈنڈے کے ذور پر جو ادب نافذ کیا (اولی الامر کا ادب کیاجائے) اس کے گندے انڈوں سے بنو امیہ اور پھر بنو عباس کے قاتل پیداہوئے. 
ادب کا تعلق انکساری اور عزت سے ہے نہ کہ گول کو چوکور کہنے سے. 
یہ بھٹو صاحب کا ادب ہی ہے کہ وہ زندہ ہیں اور غریب مردہ. 
اور یہ ضیاء جی کا ادب ہے کہ وہ مرد مومن مرد حق ہیں جبکہ عوام کافر کافر رو رہی ہے. 
اسی قسم کے ایک ادب نے نضاری فرقہ جنم دیا جو کہتا ہے کہ ہر دور میں خدا تین جسمانی روپ لیتا آیا ہے. 
برہما وشنو شیو
خدا مسیح و جبریل 
حضور نبی الکریم و مولا علی و سلمان
سچ کا کوئی متبادل نہیں. 
اور ادب جیسا کوئی راستہ نہیں. 
ایک کو چھوڑ کر دوسرے کے ذریعے انسانیت کی بھلائی ممکن نہیں.
اول اول دو صفات نبی الکریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو مکہ میں مشہور ہوئیں وہ صادق و امین ہیں. 
جبکہ مولا علی علیہ السلام کے اعلان سے ہمیں ادب کا سبق ملتا ہے. 
یعنی خود کو پیش کردینا.
سچائی و ادب لازم و ملزوم ہیں. با ادب ہو کر سچائی کی تلاش کریں تاکہ کوئی آپ کو گمراہ نہ کر سکے.
ادب ایک جامع اشارہ ہے. جبکہ قدم بہ قدم سفر سچائی کے سہارے ہی ہوتا ہے. 
ایک مثال ہے کہ جو فلسفہ جو نظریہ حضور نبی الکریم سے مقام کے منافی ہو غلط ہو گا. مگر اس کی جذیات اور اس کا متبادل صرف سچائی سے ممکن ہے. 
نیشنل ازم اور مارکسازم (سوشل ازم) کے الوہیات کے متعلق نظریات ملغوبہ محض ہیں مگر ان سے کامل نجات سچائی سے ممکن ہے. 
سود کا نظام ادب شریعت کے خلاف ہے مگر اس سے نجات سچائی کے سوا ممکن نہیں. 
ادب کا تعلق بی ہیویر یعنی انداز کلام و انداز تہذیب سے ہے
مثلا قرآن پاک کے حکم کے مطابق بارگاہ خیر الانام میں آواز بلند نہیں کی جاسکتی.
اور واقعہ افک بتاتا ہے کہ ادب کے ساتھ سچائی لازم ہے. 
یعنی معاملے کے مندرجات کو سچ کے ساتھ جاننا. ورنہ ایک حکم کافی تھا. اور ادباً صحابہ کرام نے سارے واقعے کو من گھڑت قرار دیا تھا سوائے چند لوگوں کے.
اپے والدین ، اساتذہ اور بزرگان کا ادب کرنا الگ ہے جبکہ سشکو جھوٹ کرنے کے لیے ذور لگانا الگ. 
میری رائے ہے غلط بھی ہو سکتی ہے. 
اپنی رائے کا اظہار کیجیے 
شکریہ



قدیم زبان اور جدید ایجادات، پیشین گوئیاں اور ان کی غلط تشریح

جس اللہ کی عطا کی عقل سے انسان مریخ پر نظر جمائے ہوئے ہے۔ 
اس کو جاہل ملا (ہر دین و مذہب سے) نہ جانے کیوں پتھر کے دور کا سمجھتے ہیں۔ (معاذ اللہ) 
مثلا بہت سی پیشین گوئیوں میں سواری سے مراد گھوڑا لیا جاتاہے اور نیزے سے مراد پرانا نیزہ جبکہ وہ سٹاف ویپن بھی ہوسکتا ہے۔
اللہ لطیف الخبیر ہے اگر صرف کواٹم میکینکس کی نطر سے ان تین اسماء کو پڑھا جائے تو عقل رنگ رہ جاتی ہے۔ ایسے مقام پر عقل کا ماتھا ٹیکنا لازم ہوجاتا ہے جبکہ اس کا شل نہ ہونا واجب۔ 
کیوں کہ سب کچھ عقل کا مظہر ہے۔ 
یہ الگ کہ یہ عقل انسانی کی بات نہیں۔ 
میں اس کو عقل کل کا جزو مانتا ہوں۔ 
جس کل کا جزو ایسا ہے، کہ اب ڈی این اے انڈیکسنگ کیے جاتا ہے اور انسان طبیعات کی حدود پر کئی بار دستک دے چکا، اس کا کل کیسا ہو گا؟
افسوس ہے کہ قرآن پاک کو پس پشت ڈال کر دوسری کتب بھلے وہ اسلامی ہی ہوں کو قرآن پاک کے برابر لا کھڑا کیا گیا۔ 
لہذہ اب فلاں اور فلاں کتب سے فتوی لیا جائے گا۔ کیوں کہ فلاں فلاں امام نے ایسا بولا ہے۔ 
کوئی کتاب اصل کتابت اور تصحیح میں قرآن کے مقابل نہیں ہو سکتی۔ حدیث بذات خود وحی ہے اور قرآن پاک سے نہیں ٹکرا سکتی۔ 
ایسا کیوں ہے؟
اس لیے کہ لسانیات میں الفاظ انسانی ترقی کے ساتھ ساتھ ترکی کرتے ہیں۔ 
مثلا۔۔۔ 
کبھی انگریزی لفظ کی (key) کا مطلب محض کنجی ہوا کرتا تھا۔ پھر یہ کی بورڈ کا بٹن جا بنا۔ اسی طرح کال آن سے مراد حلق پھاڑ کر کسی کو آواز دینا اور بلانا۔ 
جبکہ اب کسی کو کال کرنے کا مطلب ۔۔۔۔۔ آپ خوب جانتے ہیں۔ 
لیکن اگر کوئی گیپ کوئی خاموش دور درمیان میں آئے یعنی کسی زبان کو کسی لمبے وقت کے وقفے کے بعد یا پہلے کے دور کی اشیاء کا نام رکھنا ہو تو اس سلسلہ میں زبان معذور ہوتی ہے۔ 
اب لفظ ہاتف کو لیجئے۔ ہاتف ایک غیب سے آواز دینے والے کو کہتے ہیں۔ 
جبکہ عربی میں اب اس کو موبائل کے لیے بولا جاتا ہے۔
لیکن کیا ہزار سال پہلے کے عرب اس کو ہاتف ہی کہتے؟ 
فرض کیجئے کسی دو ہزار سال پہلے کے عرب کو میزائل چلتے دکھائیں تو وہ کیا کہے گا؟
ڈیزی کٹر دکھائے جائیں تو تب؟
یقینا وہ میزائل کو آگ اگلتے تیر اور ڈیزی کٹر کو ڈریگن کہے گا۔ اور ساتھ یہ بھی کہ وہ نہ عام تیر ہیں نہ عام پرندے۔
کچھ ایسا ہی تھا جب قدیم عربوں کو جدید سائنسی پیشینگوئیاں دینی تھیں
افسوس کہ ملائیت (بشمول شیعہ و سنی ) نے اس کو لٹرل (لفظی) لیا اور ۔۔۔۔ 
نتیجہ سامنے ہے۔ 
ایرانی ملا ہو یا سعودی شیخ ۔۔۔ الامان الحفیظ
اللہ پاک و رسول اللہ ﷺ کے علم کا احاطہ نا ممکن ہے۔ 
شکریہ۔

تم نے ملک کو کیا دیا؟

دو ماہ کی بچی نے رو کے دودھ مانگا. ماں نے یہ کہتے ہوئے گلی میں پھینک دی کہ وہ کام میں ہاتھ نہیں بٹاتی.غلطی کہاں ہے؟

غلطی سوچ میں ہے، کہ ایک دو ماہ کی بچی کی پرورش کرنے کی بجائے، اس کو غذا، لباس، آغوش اور تعلیم کی بجائے ننھی جان سے کام میں ہاتھ بٹانے کی توقع رکھی جائے۔
یہ ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی دیکھ بھال کرے، ان کو اس قابل بنائے کے وہ اپنے اور دوسروں کے لیے کچھ کر سکیں۔ نہ کہ بچوں کی ذمہ داری کہ وہ ماں کو سنبھالیں۔
ٹھیک یہی کچھ قریبا ہر ریاست میں ہو رہا ہے۔ نوجوان نسل جب اپنا حق مانگتی ہے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ "تم نے ملک کو کیا دیا"۔
حالانکہ ملک صرف زمین کے خطے کا نام ہوتا ہے۔ ملک ریاست سے آزاد رہتے ہوئے ساتھ چلتا ہے۔
فرض کیجئے ایک ریاست موجودہ بھارتی و پاکستانی پنجاب میں موجود ہے۔ اس کا کوئی خاص نام کہیے، "لوگ ستان" ہے۔ اب اگر رفتہ رفتہ یہ پاکستانی علاقے کی جانب سے کم ہونا (جنگوں وغیرہ کی صورت میں) کم ہو، اور اسی طرح بھارتی جانب سے بڑھتی جائے اور ہریانہ (بھارت کا صوبہ) میں جا نکلے تو ریاست قائم رہے گی جبکہ خطہ یعنی ملک بدل چکا ہو گا۔
ریاست کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر فرد کی تعلیم و تربیت، بنیادی حقوق اور مواقع کا انتظام کرے۔ ایک نہج پر پہنچ جانے کے بعد فرد کے لیے لازم ہے کہ وہ ریاست کی نگہداشت کرے۔
قبل الذکر نکتہ اشرافیہ کا پیش کردہ ہے تاکہ جذبہ حب الوطنی کو ایسے انداز سے پیش کیا جائے کہ فرد پستا ہی چلا جائے مگر زبان سے کچھ نہ بولے۔
اس نکتے کو دوسری شکلیں بھی ہیں، جو کہ انسان کے دیگر جذبات کو ہائی جیک کرتے ہوئے ذہنی، فکری اور عملی غلام بنا ڈالتی ہیں۔ مثلا مرد مومن مرد حق۔۔۔۔ اور زندہ ہے فلاں زندہ ہے۔ نعرے لگوانے والے دنیا کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہوتے ہیں جبکہ نعرے لگانے والے بنیادی حقوق سے ہی محروم ہوتے ہیں۔

یہ سوال کرنا ہر نوجوان کا حق ہے کہ نظام ملک نے اس کو کیا دیا۔ اور ہرریاست کا حق ہے کہ وہ اپنے افراد کو نوازنے کے بعد احتساب بھی کرے۔
کوئی جناح کا بیٹا ہو یا اقبال کا پسر، اس سے بالاتر نہ تھا نہ ہے نہ ہونا چاہیے۔



آزادی پاکستان، تعریف و تنقید

آزادی پاکستان، تعریف و تنقید
قیام پاکستان، ایک ایسی حقیقت ہے جس کے محبین و مخالفین دونوں ہی اس سے انکار نہیں کرسکتے۔ پاکستان، کا قیام، اس کے قیام کے اغراض و مقاصد اور بعد از قیام عالمی نقشہ پر اس کی اہمیت آئے روز زیر بحث رہتی ہے۔
ایک افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں معاشرتی علوم اور پھر مطالعہ پاکستان کے نام سے پڑھائی جانے والی تاریخ کو اس انداز سے پیش کیاجا تا ہےکہ پڑھنے والے کے لیے چودہ نکات دس نمبر کے سوال سے زائد اہمیت کے حامل نہ ہوسکے۔
قصہ مختصر، ۱۷۰۷ (سترہ سو سات) میں اورنگزیب عالمگیر (ٹوپی والی سرکار) کے سخت گیر دور کے بعد اچانک ملی آزادی مغل شہزادوں سے برداشت نہ ہو سکی، تو وہ مارے خوشی کے ننگے ہوگئے (م شاہ رنگیلا) بجائے اس کے کہ ملک کی دیکھ بھال کرتے، وہ ملک کو کاٹ کاٹ کھانے لگے جیسے ہمارے بیسویں صدی کے شہزادے ملک کو کھا رہے ہیں۔

یہ وہ نیریٹو وہ بیانیہ ہے جو عام ہے۔ مگر شاید تباہی کی داستان تب شروع ہوئی جب ایک افغانی نے ہندوستان کو باوا جی کی جاگیر سمجھا اور ایک باقائدہ منظم مسلم سلطنت پر تلوار کشی کی، عین اس وقت جب مسلم حکومت اپنی بحریہ بنانے کے لیے پر تول رہی تھی، پہلی بار تامل ناڈو اور کرناٹک کی عوام مسلم حکومت کے زیر نگر آنے کو تیار تھی جس کی وجہ بادشاہ ظہیر الدین بابر کی شراب رہی ہوگی یا پھر اس کی کافرانہ سیکولر سوچ۔ بہر حال، شیر شاہ نے اسلامی نظام کا نعرہ لگاتے ہوئے تیغ زنی کے جوہر دکھائے اور اندر سے ہی بغاوت کرتے ہوئے سارا نظام دھر لیا۔ قدرت کا کرنا کیا ہوا کہ ہمایوں کو فارس جانا پڑا، جہاں اس کے بیٹے جلال الدین لقب اکبر شاہ کو پارسی، شیعہ، نضاری اور زیدی مذہب سے تعارف ہوا، یاد رہے کہ اکبر شاہ یا مہابلی اکبر کا مذہب حنفی رہا۔
جلال الدین بعد ازاں سندھ میں والی رہا اور ہندو آبادی سے مزید متعرف ہوا، اس کے علاوہ سندھ میں موجود یہودی آبادی سے اس کا تعارف ہوا۔ اس تمام ایکسپوژر نے اس کو وحدۃ الوجود و وحدۃ الانسان کی طرف راغب کیا جو کہ ملائیت کے لیے زھر قاتل ہونے کے باعث کفر ٹھہرا۔
اس طرح ملک میں مذہبی بنیاد پر فسادات کا آغاز ہوا۔
اس کے بعد اورنگزیب عالمگیر کا دور جو کہ ایک مارشل لاء کی حثیت اختیار کرگیا۔ جس کے بعد م شاہ رنگیلا کی مادر پدر آزادی نے ملک کو انگریزوں کے ہاتھ پہنچا دیا۔
پاکستان کا قیام لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ پر ہوا، مگر یاد رہے اسلامی ریاست کا اصول، لکم دینکم ولی دین پر ہے۔ اور یہی جلال الدین کی بنیاد رہی۔
یہی وہ نظریہ ہے جس کو جناب محمد علی جناح نے اپنی ۱۱ اگست انیس سو سینتالیس کی تقریر کے دوران بیان کیا۔
As you know, history shows that in England, conditions, some time ago, were much worse than those prevailing in India today. The Roman Catholics and the Protestants persecuted each other. Even now there are some States in existence where there are discriminations made and bars imposed against a particular class. Thank God, we are not starting in those days. We are starting in the days where there is no discrimination, no distinction between one community and another, no discrimination between one caste or creed and another. We are starting with this fundamental principle that we are all citizens and equal citizens of one State. 
ترجمہ:
جیسا کہ آپ جانتے ہیں، انگلستان کی تاریخ سے ظاہر ہے کہ وہاں حالات موجودہ ہندوستان کے حالات سے زیادہ دشوار تھے۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ایک دوسرے کے خلاف سرگرم رہتے۔ ابھی تک ایسی ریاستیں موجود ہیں جہاں خاص طبقات کے خلاف تفریق اور پابندیاں قائم کی جاتی ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم ایسے حالات میں آغاز نہیں کر رہے۔ ہم ایسے وقت میں آغاز کر رہے ہیں کہ جب مختلف برادریوں کے مابین نہ تو تفرق ہے نہ تفریق، کسی قوم و ذات کے مابین تفریق و نہیں۔ ہم اس بنیادی اصول سے آغاز کر رہے ہیں کہ ہم سب ریاست کے برابر شہری ہیں۔
Now I think we should keep that in front of us as our ideal and you will find that in course of time Hindus would cease to be Hindus and Muslims would cease to be Muslims, not in the religious sense, because that is the personal faith of each individual, but in the political sense as citizens of the State.
 ترجمہ:
اب میرا خیال ہے کہ ہم سب کو یہ بات ایک بنیادی اصول کی طرح اپنے پیش نظر رکھنی چاہیے اور آپ دیکھیے گا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہندو ہندو نہ رہیں گے اور مسلم، مسلم، مذہبی بناء پر نہیں، کیوں کہ مذہب ہر ایک فرد کا ذاتی ایمان ہے، بلکہ سیاسی حثیت سے (ہندو، ہندو نہیں اور مسلم، مسلم) بلکہ ریاست کے شہری ہونے کی بنیاد پر۔

اب کچھ سوالات۔۔۔
کیا پاکستان اسلام کے نام پر بنا یا سیکولرازم (لادینیت) کے لیے؟
میرا جواب یہ ہے کہ اول تو یہ سوال سراسر جاہلانہ ہے، کیوں کہ سوال کرنے والا یہ سمجھتا ہے کہ اسلام اور سیکولرازم دو الگ نظریات ہیں، دوسرا، وہ سمجھتا ہے کہ سیکولرازم کا مطلب لادینیت ہے۔
سیکولرازم کا مطلب اپنا اپنا مذہب ہے نہ کہ لادینیت یعنی ادیان کی کامل نفی۔
اسلامی ریاست جو خود حضور نبی الکریم ﷺ نے قئم کی، اس میں مسلم و یہودی ایک برابر شہری کی حثیت رکھتے تھے۔
لہٰذہ سیکولرازم اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔
اگر سیکولرازم ہی اسلام ہے تو پاکستان اسلامی جمہوریہ کیوں؟
اسکی وجہ کچھ یوں ہے کہ ملک پر ملائیت کے قبضہ اور سیکولرازم کے نام پر لادینیت کی تعلیم جیسی دو انتہاوں کے تصادم کے نتیجہ میں ملک جمہوریہ پاکستان سے رفتہ رفتہ انیس سو تہتر کے آخری متفقہ آئین تک اسلامی جمہوریہ بنا۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا قیام اسلامی جمہور کے نظریہ پر ہی ہوا، وگرنہ سیکولر ریاست تو انگریز سرکار بنا ہی جاتی اور گاندھی جی اس کا عندیہ دے چکے تھے۔
اب سیکولر ازم کے نام پر فرنگی تہذیب کے طلبگار قائد کی اسی تقریر کا سہارا لیتے ہیں۔
پاکستان مسلمانوں کے لیے اور بھارت ہندووں کے لیے، تو پھر پاکستان میں چرچ (کلیسا) اور مندر کیوں بنائے جائیں؟
ایسا کہنا غلط ہے، پاکستان اسلامی نظام کے لیے بنا، اور اسلامی نظام میں غیر مسلموں کے لیے وسیع جگہ موجود ہے۔
مسلمانوں نے پاکستان اور ہندووں نے بھارت کے لیے جدوجہد کی، تو پھر پاکستان محض مسلمانوں کے لیے ہونا چاہیے نا؟
نہیں۔۔۔ غلط،
میرا نظریہ منطقی یعنی لاجکل ہے۔
جب ہم نے کہا کہ دو قومیں ہیں اور دونوں کو ہی آزاد ہونا چاہیے تو منطقی طور پر ہم نے دو ریاستوں کے لیے جدوجہد کی، ایک اپنے لیے اور ایک ایک اپنے ہندو بھائیوں کے لیے، یہ الگ کہ یہ بھائی برادران یوسف ثابت ہوئے۔

میرا ذاتی نظریہ ہے کہ پاکستان کی اساس (جو قائد و مسلمانان ہند نے رکھی) کلمہ پر ہے کہ یہ ملک نظام اسلامی کے تحت چلے اور اس کی ریاستی بنیاد ریاست مدینہ پر ہے۔ مگر یہ ریاست مدینہ دور مروان کی نہیں، بلکہ دور رسول اللہ ﷺ کی ریاست مدینہ ہے۔


شکریہ۔ 

اقامہ کی بنا پر نا اہلی؟ چہ معنی دارد؟

نواز شریف تا حیات ناہل، اور ان کے بچے اعلی عدلیہ کے تحت مزید تفتیش و نالش کے اہل ٹھہرے۔  گویا اچانک جوہری دنیا الٹ گئی ہے، الیکٹرون مرکزے و پروٹون مداروں میں بھیج دئیے گئے ہوں۔ ایک ایسا سیاسی زلزلہ جس کی تھرتھراہٹ تاحال محسوس کی جا سکتی ہے۔۔
ایک عام تاثر جو کچھ حلقوں میں خدشہ تو کچھ میں امید رہا، کہ نواز شریف کو ان کے لندن فلیٹس کی وجہ سے نااہل کیا جائےگا، غلط ثابت ہوا۔ اعلی عدلیہ نے ان کے عربی ملک کے اقامہ کو سامنے رکھ کر ان کو 62اور 63 کی چھاننی میں چھان ڈالا۔
مگر کیا اقامہ رکھنا اور تنخواہ نہ لینا ایسا ہی بڑا جرم ہے کہ تاحیات نا اہل قرار دے دیا جائے؟
کیا اقامہ و غیر وصول شدہ تنخواہ ہی اصل ماجرا ہیں؟
کیا یہ بات اتنی ہی سادہ ہے جتنی محسوس کی جا رہی ہے؟
یہ بات نہ تو اتنی سادہ ہے نہ یہ جرم اتنا چھوٹا، بظاہر یہ بہت خطرناک جرم ہے جس کا ایک منظر نامہ کچھ یوں ہے۔
فرض کیجیئے ایک صاحب کی کچھ غیر وصول شدہ رقم (تنخواہ یا دیگر ادائیگی) کسی دوسری کمپنی میں موجود ہے۔ تو یہ رقم دراصل انہیں صاحب کی ہے فقط کسی دوسری جیب میں ہے۔ اس کے تمام قانون حقوق انہیں صاحب کے پاس ہیں اور یہ رقم وصول کیے جانے کو موجود بھی ہے۔
اب ایسی رقم اور ذریعہ آمدن کو چھپانا اور قانونی کاغذات پر ان کا ذکر نہ کرنا ایک بڑا جرم ہے۔ اس سے غیرآئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہونے کےساتھ ساتھ ایسے ذرائع کے حامل کا غیر دیانتدار ہونا، کذاب ہونا اور دغاباز (فراڈ) ہونا ثابہت ہوتا ہے۔ جوکہ آئین پاکستان کی شقوں باسٹھ اور تریسٹھ کے سراسر خلاف ہے۔ اور ایسا کرنے والا صادق و امین نہیں رہ پاتا۔
فرض کیجئے کہ ان صاحب کی ایک کاروباری کمپنی ہے جس کے وہ منتظم اعلی ہیں۔
اس کمپنی کے کیش اکاوںٹ میں وہ تنخواہ یا رقم موجود ہے جو انہوں نے نہیں وصولی، اور ان کے کیش اکاونٹ میں وہ موجود نہیں۔ آڈٹنگ یا حساب کے مطابق آپ کی بیلنس شیٹ بھی خراب اور کمپنی کی بھی جس کو انکم ٹیکس یا آڈٹنگ دونوں ہی مشکوک قرار دیں گے۔
اب اتنا ہی نہیں، اگر انہوں نے اپنے اس ذریعہ آمدن اور پیسہ کو انکم ٹیکس سے چھپایا تو وہ مجرم بھی ہیں۔
اگر یہی کام کاغذات نامزدگی پر کیا جائے تو یہ آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ کے خلاف ہے۔
ایک "تناظر" یہ بھی بنتا ہے، چونکہ وہ صاحب ایک دوسرے ملک میں کام کر رہے ہیں، تو اس ملک کے اقامہ یعنی رہائشی اجازت کو استعمال کرتے ہوئے بنک اکاونٹ بھی بنائے ہوں گے۔ جن کو استعمال کرتے ہوئے کالا دھن جمع کیا جاتا ہو گا۔ اب چونکہ وہ اکاونٹ دوسرے ملک میں ہیں، تو ریاست پاکستان کے پاس حق نہیں کہ وہ براہ راست ان پر نظر ڈال سکے۔ اس طرح وہ کالا دھن چھپا رہتا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ نواز شریف صاحب ذریعہ ترسیل رقم ثابت کرنے تو کجا بتانے سے بھی قاصر رہے، تو لازم ہے کہ رقم ایسے اکاونٹ میں رکھی جائے جس کا پاکستان سے تعلق نہ ہو کیوں کہ یہ سمگل شدہ، غیر قانونی رقم ہے۔
اگر یہ رقم اتنی زیادہ ہو کہ اس سے ریاست پاکستان کو بڑا نقصان پہنچے تو یہ ہائی ٹریزن یعنی غداری کا جرم ہے۔ اور ایسی صورت میں آئین پاکستان کی شق چھ کے تحت مقدمات بنتے ہیں۔
اگر ایسا بڑا نہیں تو پھر بھی یہ نااہل کرنے کا کافی ہی نہیں کافی سے زیادہ ہے۔
یہ میری رائے ہے۔ آپ کی رائے اس سے مختلف بھی ہو سکتی ہے۔
اس مقصد کے لیے کمنٹ باکس یا ای میل کا استعمال کیجیے۔
opinion@engrvarsi.com
شکریہ

وارثیؔ

Have your say?