پاکستان، یوم، آزادی، چودہ اگست، ۱۱ اگست، گیارہ اگست، قائد اعظم، سیکولرازم، قیام پاکستان، PakistanIslamSecularism
آزادی پاکستان، تعریف و تنقید
قیام پاکستان، ایک ایسی حقیقت ہے جس کے محبین و مخالفین
دونوں ہی اس سے انکار نہیں کرسکتے۔ پاکستان، کا قیام، اس کے قیام کے اغراض و مقاصد
اور بعد از قیام عالمی نقشہ پر اس کی اہمیت آئے روز زیر بحث رہتی ہے۔
ایک افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں
معاشرتی علوم اور پھر مطالعہ پاکستان کے نام سے پڑھائی جانے والی تاریخ کو اس
انداز سے پیش کیاجا تا ہےکہ پڑھنے والے کے لیے چودہ نکات دس نمبر کے سوال سے زائد اہمیت
کے حامل نہ ہوسکے۔
قصہ مختصر، ۱۷۰۷ (سترہ سو سات) میں اورنگزیب
عالمگیر (ٹوپی والی سرکار) کے سخت گیر دور کے بعد اچانک ملی آزادی مغل شہزادوں سے
برداشت نہ ہو سکی، تو وہ مارے خوشی کے ننگے ہوگئے (م شاہ رنگیلا) بجائے اس کے کہ ملک
کی دیکھ بھال کرتے، وہ ملک کو کاٹ کاٹ کھانے لگے جیسے ہمارے بیسویں صدی کے شہزادے
ملک کو کھا رہے ہیں۔
یہ وہ نیریٹو وہ بیانیہ ہے جو عام ہے۔ مگر شاید
تباہی کی داستان تب شروع ہوئی جب ایک افغانی نے ہندوستان کو باوا جی کی جاگیر
سمجھا اور ایک باقائدہ منظم مسلم سلطنت پر تلوار کشی کی، عین اس وقت جب مسلم حکومت
اپنی بحریہ بنانے کے لیے پر تول رہی تھی، پہلی بار تامل ناڈو اور کرناٹک کی عوام
مسلم حکومت کے زیر نگر آنے کو تیار تھی جس کی وجہ بادشاہ ظہیر الدین بابر کی شراب
رہی ہوگی یا پھر اس کی کافرانہ سیکولر سوچ۔ بہر حال، شیر شاہ نے اسلامی نظام کا
نعرہ لگاتے ہوئے تیغ زنی کے جوہر دکھائے اور اندر سے ہی بغاوت کرتے ہوئے سارا نظام
دھر لیا۔ قدرت کا کرنا کیا ہوا کہ ہمایوں کو فارس جانا پڑا، جہاں اس کے بیٹے جلال
الدین لقب اکبر شاہ کو پارسی، شیعہ، نضاری اور زیدی مذہب سے تعارف ہوا، یاد رہے کہ
اکبر شاہ یا مہابلی اکبر کا مذہب حنفی رہا۔
جلال الدین بعد ازاں سندھ میں والی رہا اور ہندو
آبادی سے مزید متعرف ہوا، اس کے علاوہ سندھ میں موجود یہودی آبادی سے اس کا تعارف
ہوا۔ اس تمام ایکسپوژر نے اس کو وحدۃ الوجود و وحدۃ الانسان کی طرف راغب کیا جو کہ
ملائیت کے لیے زھر قاتل ہونے کے باعث کفر ٹھہرا۔
اس طرح ملک میں مذہبی بنیاد پر فسادات کا آغاز
ہوا۔
اس کے بعد اورنگزیب عالمگیر کا دور جو کہ ایک
مارشل لاء کی حثیت اختیار کرگیا۔ جس کے بعد م شاہ رنگیلا کی مادر پدر آزادی نے ملک
کو انگریزوں کے ہاتھ پہنچا دیا۔
پاکستان کا قیام لا الہ الا اللہ محمد الرسول
اللہ پر ہوا، مگر یاد رہے اسلامی ریاست کا اصول، لکم دینکم ولی دین پر ہے۔ اور یہی
جلال الدین کی بنیاد رہی۔
یہی وہ نظریہ ہے جس کو جناب محمد علی جناح نے
اپنی ۱۱ اگست انیس سو سینتالیس کی تقریر کے دوران بیان کیا۔
As you know, history
shows that in England, conditions, some time ago, were much worse than those
prevailing in India today. The Roman Catholics and the Protestants persecuted
each other. Even now there are some States in existence where there are
discriminations made and bars imposed against a particular class. Thank God, we
are not starting in those days. We are starting in the days where there is no
discrimination, no distinction between one community and another, no
discrimination between one caste or creed and another. We are starting with
this fundamental principle that we are all citizens and equal citizens of one
State.
ترجمہ:
جیسا کہ آپ جانتے ہیں، انگلستان کی تاریخ سے ظاہر
ہے کہ وہاں حالات موجودہ ہندوستان کے حالات سے زیادہ دشوار تھے۔ رومن کیتھولک اور
پروٹسٹنٹ ایک دوسرے کے خلاف سرگرم رہتے۔ ابھی تک ایسی ریاستیں موجود ہیں جہاں خاص
طبقات کے خلاف تفریق اور پابندیاں قائم کی جاتی ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم ایسے
حالات میں آغاز نہیں کر رہے۔ ہم ایسے وقت میں آغاز کر رہے ہیں کہ جب مختلف
برادریوں کے مابین نہ تو تفرق ہے نہ تفریق، کسی قوم و ذات کے مابین تفریق و نہیں۔
ہم اس بنیادی اصول سے آغاز کر رہے ہیں کہ ہم سب ریاست کے برابر شہری ہیں۔
Now I think we should
keep that in front of us as our ideal and you will find that in course of time
Hindus would cease to be Hindus and Muslims would cease to be Muslims, not in
the religious sense, because that is the personal faith of each individual, but in the political sense as
citizens of the State.
ترجمہ:
اب میرا خیال ہے کہ ہم سب کو یہ بات ایک بنیادی
اصول کی طرح اپنے پیش نظر رکھنی چاہیے اور آپ دیکھیے گا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہندو ہندو
نہ رہیں گے اور مسلم، مسلم، مذہبی بناء پر نہیں، کیوں کہ مذہب ہر ایک فرد کا ذاتی
ایمان ہے، بلکہ سیاسی حثیت سے (ہندو، ہندو نہیں اور مسلم، مسلم) بلکہ ریاست کے
شہری ہونے کی بنیاد پر۔
اب کچھ سوالات۔۔۔
کیا پاکستان اسلام کے نام پر بنا یا سیکولرازم
(لادینیت) کے لیے؟
میرا جواب یہ ہے کہ اول تو یہ سوال سراسر
جاہلانہ ہے، کیوں کہ سوال کرنے والا یہ سمجھتا ہے کہ اسلام اور سیکولرازم دو الگ
نظریات ہیں، دوسرا، وہ سمجھتا ہے کہ سیکولرازم کا مطلب لادینیت ہے۔
سیکولرازم کا مطلب اپنا اپنا مذہب ہے نہ کہ
لادینیت یعنی ادیان کی کامل نفی۔
اسلامی ریاست جو خود حضور نبی الکریم ﷺ نے قئم
کی، اس میں مسلم و یہودی ایک برابر شہری کی حثیت رکھتے تھے۔
لہٰذہ سیکولرازم اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے
ایک ہے۔
اگر سیکولرازم ہی اسلام ہے تو پاکستان اسلامی
جمہوریہ کیوں؟
اسکی وجہ کچھ یوں ہے کہ ملک پر ملائیت کے قبضہ
اور سیکولرازم کے نام پر لادینیت کی تعلیم جیسی دو انتہاوں کے تصادم کے نتیجہ میں
ملک جمہوریہ پاکستان سے رفتہ رفتہ انیس سو تہتر کے آخری متفقہ آئین تک اسلامی
جمہوریہ بنا۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا قیام اسلامی
جمہور کے نظریہ پر ہی ہوا، وگرنہ سیکولر ریاست تو انگریز سرکار بنا ہی جاتی اور
گاندھی جی اس کا عندیہ دے چکے تھے۔
اب سیکولر ازم کے نام پر فرنگی تہذیب کے طلبگار
قائد کی اسی تقریر کا سہارا لیتے ہیں۔
پاکستان مسلمانوں کے لیے اور بھارت ہندووں کے
لیے، تو پھر پاکستان میں چرچ (کلیسا) اور مندر کیوں بنائے جائیں؟
ایسا کہنا غلط ہے، پاکستان اسلامی نظام کے لیے
بنا، اور اسلامی نظام میں غیر مسلموں کے لیے وسیع جگہ موجود ہے۔
مسلمانوں نے پاکستان اور ہندووں نے بھارت کے لیے
جدوجہد کی، تو پھر پاکستان محض مسلمانوں کے لیے ہونا چاہیے نا؟
نہیں۔۔۔ غلط،
میرا نظریہ منطقی یعنی لاجکل ہے۔
جب ہم نے کہا کہ دو قومیں ہیں اور دونوں کو ہی
آزاد ہونا چاہیے تو منطقی طور پر ہم نے دو ریاستوں کے لیے جدوجہد کی، ایک اپنے لیے
اور ایک ایک اپنے ہندو بھائیوں کے لیے، یہ الگ کہ یہ بھائی برادران یوسف ثابت
ہوئے۔
میرا ذاتی نظریہ ہے کہ پاکستان کی اساس (جو قائد
و مسلمانان ہند نے رکھی) کلمہ پر ہے کہ یہ ملک نظام اسلامی کے تحت چلے اور اس کی
ریاستی بنیاد ریاست مدینہ پر ہے۔ مگر یہ ریاست مدینہ دور مروان کی نہیں، بلکہ دور
رسول اللہ ﷺ کی ریاست مدینہ ہے۔
شکریہ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں